آج کا دن
08 September
2006
اسرائیلی فوج نے 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں قائم قیدیوں کی بہبود کےلیے کام کرنے والے ادارے کے دفاتر پر حملہ کر کے اس کی املاک کو قبضے میں لے لیا جبکہ اس پر دو سال کےلیے پابندی لگا دی
2003
اسرائیلی فوج نے فلسطینی چیف جسٹس قاضی تہسیر تمیمی کو مسجد اقصی کی جانب نماز کے لیے جاتے ہوئےگرفتار کر لیا
... گزشتہ سے پیوستہ
مغربی کنارے کے حالات اعتماد سازی کی راہ میں رکاوٹ ہیں: ایمن طہ
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
گیند "فتح" کے کورٹ میں ہے
مغربی کنارے کے حالات اعتماد سازی کی راہ میں رکاوٹ ہیں: ایمن طہ
[ 08/02/2010 - 07:40 PM ]
غزہ ۔ مرکز اطلاعات فلسطین

 اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے رہ نما ایمن طہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کی قیادت کے ساتھ فتح کی جانب سے روا رکھا جانے والا سلوک اعتماد سازی کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔ اس سے فلسطینیوں کی تقسیم کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی بات کرتے ہوئے ایمن طہ کا کہنا تھا کہ فتح کی مرکزی کونسل کے رکن اور اعلی فلسطینی مذاکرات کار نبیل شعت کا دورہ غزہ کے موقع پر شاندار استقبال وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے اعلی اخلاقی کردار کا مظہر ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ حماس کی نیک نیتی کا ثبوت ہے۔ ایمن طہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مغربی کنارے میں انہیں ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ مغربی کنارے میں حماس کی قیادت اور کارکنوں پر شدید مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا مغربی کنارے میں حماس اور اس کے حامیوں کو انسانی، معاشرتی اور تنظیمی امور کی انجام دہی میں متعدد مشکلات درپیش ہیں۔ فتح کی حکومت حماس سے مغربی کنارے میں ایک کالعدم جماعت جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ غزہ میں حماس کی قیادت اور حامی یکطرفہ اقدام اٹھانے سے گریز کرتے ہیں جبکہ مغربی کنارے میں فتح کی قیادت اور کارکن ہر طرح سے آزاد ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی روک نہیں لگائی گئی۔

ایمن طہ نے کہا دونوں تنظیموں کے درمیان اختلافات کے خاتمے اور قومی وحدت کی خاطر اقدامات کرنا اب فتح کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا فتح کے رہ نما نبیل شعت کو دورہ غزہ کے موقع پر حل طلب امور کا جو نسخہ تجویز کیا گیا تھا اب تک محمود عباس نے اس جامع تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا۔

حماس کے رہ نما نے کہا کہ فتح کے پاس دو آپشن ہیں۔ پہلے آپشن جیو اور جینے دو کا ہے جبکہ دوسرے آپشن کے تحت وہ بیرونی طاقتوں سے مدد لیکر اپنے غیر آئینی اقتدار کو طول دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا فتح کو چاہیے کہ باہمی اختلافات کے خاتمے کی خاطر محب وطن سیاستدانوں کی طرح مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھے۔

أعلى الصفحة