|
مقبوضہ بیت المقدس۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی اہلکاروں کوہدایت کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی حمایت کے لیے نکالے جانے والے فسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے زور پر کچل دے۔
مرکز اطلاعات فلسطین نے اسرائیلی اخبار "ہارٹز" کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ صہیونی سیکیورٹی حکام نے عباس ملیشیا کے اعلیٰ سطح کے اہلکاروں کو خطوط لکھے ہیں جن میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مظاہروں کو طاقت کے زور پر نہ کچلا گیا توفوج خود کارروائی کرکے مظاہرین کو منتشر کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے الخلیل میں مسجد ابراھیمی اور بیت لحم میں مسجد بلال بن رباح کو یہودی تاریخ کا ورثہ قراردیے جانے کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیل مخالف سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے جس پر اسرائیل کوشدید تشویش ہے، مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری رہا اور عباس ملیشیا کی جانب سے ان کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو فوج خود مغربی کنارے میں داخل ہو کر مظاہرین اور اسرائیل کے خلاف نفرت پیدا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے"شاباک" کے چیف یووال ڈیسکن نے رام اللہ میں سلام فیاض اور فلسطینی سیکیورٹی ادارے کے اعلیٰ افسران کو الگ الگ خطوط لکھے ہیں جن میں مغربی کنارے میں شہریوں کے مسجد اقصیٰ کی حمایت میں نکالے گئے احتجاجی مظاہروں پراپنی تشویش کا اظہار کیاگیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے فلسطینی حکومت سےمطالبہ کیا کہ ہے کہ اسرائیل مخالف عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں فوری طورپر گرفتار کرے کیونکہ عدم گرفتاری کی صورت میں اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی ذرائع کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی فوجی افسران اور عباس ملیشیا کے اعلیٰ سطح کے اہلکاروں کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں بھی اسرائیلی حکام نے فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ، مسجد ابراھیمی اور مسجد بلال کے حق میں احتجاجی مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا۔
|