|
مقبوضہ بیت المقدس۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے محصور مریضوں کوان کے علاج معالجے کے بدلے اپنا ایجنٹ بنانے کے لیے بلیک میل کرنا شروع کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فوج غزہ کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت فراہم نہیں کر رہے تاہم، مریضوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ علاج کرانا چاہتے ہیں تو انہیں اس صورت میں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے گی اگر وہ اسرائیلی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایسے تین فلسطینی شہریوں کو اپنا ایجنٹ بنانے کے لیے بلیک کرنے کی کوشش کی اور ان کے ایجنٹ بننے کے بدلے میں ان کا علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم اس پر مریض اور ان کے اہل خانہ نے انسانی حقوق کے مندوبین سے رابطہ کیا اور اپنا مسئٓلہ ان کے سامنے پیش کیا۔
دوسری جانب فلسطین میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے اداروں نے غزہ کے شہریوں کو ایجنٹ بننے کے بدلے میں ان کا علاج کرانے کی اسرائیلی سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقی طرز عمل قرار دیا ہے۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں" انٹرنیشنل ڈاکٹر فاؤنڈیشن، الیمزان، مرکز العدالہ اور دیگر اداروں نے صہیونی اٹارنی جنرل کو خطوط لکھے ہیں جن میں فلسطینی مریضوں کے علاج کے بدلے انہیں فوج کی جانب سے بلیک میل کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ خطوط میں اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی مریضوں کو انسانی ہمدردی کے تحت بیرون ملک علاج کےلیے جانے کی اجازت فراہم کریں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام مریضوں اور دیگر شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے فلسطینی مریضوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے متعلق عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی خطوط کے ذریعے آگاہ کیا ہے۔
|