آج کا دن
09 September
2006
جنوبی غزہ میں کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے بائیس سالہ رکن الیاد ابو سعادہ نے جام شہادت نوش کیا
2006
خان یونس شہر میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی القسام بریگیڈ کے رکن نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا
2003
القسام بریگیڈ کے دو اراکین نے تل ابیب میں فدائی حملہ میں سولہ صہیونیوں کو جہنم واصل اور دسیوں کو زخمی کیا
2003
اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں غرب اردن میں القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد عثمان بدر نے جام شہادت نوش کیا
2002
ارئیل شیرون نے اوسلو معاہدے کے بعض نکات کو مسترد کر دیا
2001
محمد صالح چشتی نے مقببوضہ فلسطین میں فدائی حملہ کر کے 5 یہودیوں کو ہلاک اور چالیس کو زخمی کیا
1976
عرب لیگ نے فلسطین کو اپنا رکن بنایا
... گزشتہ سے پیوستہ
مصلیٰ مروانی کو یہودی ورثہ قرار دینے کا منصوبہ
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
القدس کو یہودیانے کےلیے تین لاکھ 80 ہزار ڈالر یومیہ مختص
مصلیٰ مروانی کو یہودی ورثہ قرار دینے کا منصوبہ
[ 09/03/2010 - 08:08 AM ]
مقبوضہ بیت المقدس۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین

مسجد اقصیٰ کی تاریخی دستاویزات شعبے کے نگران ڈاکٹر ناجح بکیرات نے انکشاف کیا ہے کہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ کے تاریخی مقام"مروانی مصلیٰ" کو بھی الخلیل میں حرم ابراھیمی اور بیت لحم میں مسجد بلال بن رباح کی طرح یہودیوں کا تاریخی ورثہ قراردینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

پیرکے روز ایک مصری اخبار"الدستور" کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے مصلیٰ مروانی کو یہودی آثار قدیمہ کا حصہ بنانے کے لیے پہلے سے بڑھ کرسازشیں کر رہا ہے۔ صہیونی حکومت کی جانب سے یہودیوں کو مصلیٰ مروانی میں کھلے عام داخل ہونے کی اجازت فراہم کی جاتی ہے جبکہ فلسطینی شہریوں کو نماز کے لیے اس مقدس مقام تک نہیں جانے دیا جاتا۔ نمازوں کے اوقات میں بڑی تعداد میں فوج اور پولیس اہلکار مصلیٰ مروانے کے قریب اور اہم دروازوں پرتعینات کیے جاتے ہیں۔

بکیرات نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل نے 2000 سے 20005ء کے دوران اس طرح کی خبریں نشر کرنا شروع  کر دی تھیں جن میں مصلیٰ مروانی کے گرائے جانے کی افواہیں شامل تھیں۔

 اس کے علاوہ مصلیٰ مروانی کویہودیوں کا تاریخی ورثہ قرار دینےکے لیے نمازیوں کے وہاں داخلے اور عام زائرین کی آمد پرپابندی لگائی جارہی تھی۔

بکیرات نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں کی جانے والی کھدائیوں سے صرف سلوان اور شیخ جراح میں تاریخی مقامات ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ان اسے براہ راست مسجد اقصیٰ کو خطرات لاحق ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس کو یہودیانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بکیرات نے کہا کہ اسرائیل بیت المقدس میں یہودی آبادی کو بڑھانے کے لیے یومیہ تین لاکھ اسی ہزار ڈالر کی خطیر رقوم پھونک رہا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں عرب ممالک کی جانب سے اسے روکنے یا فلسطینیوں کی آبادی بڑھانے پر دس ہزار ڈٓالر بھی خرچ نہیں کیے جاتے۔

انہوںنے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا سلسلہ بدستور جاری رہا تو یہودی جلد اس شہر پر اپنا آبادیاتی تسلط قائم کر لیں گے۔

أعلى الصفحة