آج کا دن
09 September
2006
جنوبی غزہ میں کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے بائیس سالہ رکن الیاد ابو سعادہ نے جام شہادت نوش کیا
2006
خان یونس شہر میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی القسام بریگیڈ کے رکن نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا
2003
القسام بریگیڈ کے دو اراکین نے تل ابیب میں فدائی حملہ میں سولہ صہیونیوں کو جہنم واصل اور دسیوں کو زخمی کیا
2003
اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں غرب اردن میں القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد عثمان بدر نے جام شہادت نوش کیا
2002
ارئیل شیرون نے اوسلو معاہدے کے بعض نکات کو مسترد کر دیا
2001
محمد صالح چشتی نے مقببوضہ فلسطین میں فدائی حملہ کر کے 5 یہودیوں کو ہلاک اور چالیس کو زخمی کیا
1976
عرب لیگ نے فلسطین کو اپنا رکن بنایا
... گزشتہ سے پیوستہ
خواتین کا عالمی دن۔۔۔ فلسطینی اسیرات بنیادی حقوق سے محروم
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
خواتین کا عالمی دن۔۔۔ فلسطینی اسیرات بنیادی حقوق سے محروم
[ 09/03/2010 - 11:00 AM ]
غزہ ۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین

1967ء کے بعد سے ہزاروں فلسطینی خواتین اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرچکی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر فلسطینی اسیرات کے متعلق میڈیا کمیٹی کے ڈائریکٹر ریاض اشقر نے کہا کہ تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے 900 فلسطینی خواتین کو گرفتار کیا جن میں سے 37 اسیرات ابھی بھی پس دیوار زندان ہیں۔ اسرائیلی حکومت مقبوضہ فلسطین کی خواتین کو حراست میں لینے کی پالیسی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ رواں سال میں اب تک 3 خواتین کو گرفتار کیا گیا۔

اسرائیلی جیلوں میں آمنہ منی کا نواں خواتین کا عالمی دن، ایمان عزادی کا آٹھواں اور متعدد اسیرات کا ساتواں خواتین کا عالمی دن ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں خواتین کا عالمی دن منا رہی ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیرات پر کیا بیت رہی ہے۔ فلسطینی اسیرات قیدیوں کے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اسرائیلی جیل انتظامیہ خواتین پر تشدد کی بدترین کارروائیاں کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ اسیرات کو علاج معالجے اور تعلیم کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔

اسرائیلی جیل انتظامیہ نے رواں سال کے شروع میں ''الدامون'' جیل کی فلسطینی اسیرات کو ایک نئی جیل میں منتقل کردیا جہاں پر زندگی کی بنیادی ضروریات بھی مہیا نہیں ہیں۔ جیل کے کمروں میں بارش کا پانی داخل ہو کر اسیرات کے سونے کی جگہ تک پہنچ جاتا ہے۔ خطرناک امر ہے کہ کھڑکیوں کے ذریعے بارش کی بوچھاڑ سے الیکٹرک بورڈ گیلے ہو جاتے ہیں اور شارٹ سرکٹ ہونے کا خطرہ ہے۔

33 فیصد اسیرات مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جن میں سے بعض اسیرات کو خطرناک بیماریاں لاحق ہیں۔ ان کے لیے سپیشل ڈاکٹرز اور سامان طب کا کوئی انتظام نہیں۔ ان کا معائنہ نرسیں کرتیں جو درد کش گولیاں مریضات کے ہاتھوں میں تھما دیتی ہیں۔

أعلى الصفحة