آج کا دن
09 September
2006
جنوبی غزہ میں کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے بائیس سالہ رکن الیاد ابو سعادہ نے جام شہادت نوش کیا
2006
خان یونس شہر میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی القسام بریگیڈ کے رکن نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا
2003
القسام بریگیڈ کے دو اراکین نے تل ابیب میں فدائی حملہ میں سولہ صہیونیوں کو جہنم واصل اور دسیوں کو زخمی کیا
2003
اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں غرب اردن میں القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد عثمان بدر نے جام شہادت نوش کیا
2002
ارئیل شیرون نے اوسلو معاہدے کے بعض نکات کو مسترد کر دیا
2001
محمد صالح چشتی نے مقببوضہ فلسطین میں فدائی حملہ کر کے 5 یہودیوں کو ہلاک اور چالیس کو زخمی کیا
1976
عرب لیگ نے فلسطین کو اپنا رکن بنایا
... گزشتہ سے پیوستہ
اسرائیل کی حمایت میں کانفرنس کے انعقاد پر احتجاج
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
ہالینڈ میں عالمی عدالت انصاف کے دفتر میں
اسرائیل کی حمایت میں کانفرنس کے انعقاد پر احتجاج
[ 10/03/2010 - 07:18 AM ]
ایمسٹرڈیم ۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین

ہالینڈ میں فلسطینیوں کی حامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانے سے عالمی عدالت انصاف کے دفتر میں اسرائیل کی حمایت میں کانفرنس کے انعقاد پرشدید احتجاج کیا گیا۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق منگل اور بدھ  کو ہونے والی کانفرنس کا انعقاد اسرائیل کو امداد اور فنڈز فراہم کرنے والی یورپی تنظیم" سی آئی ڈی آئی" کی جانب سے کیا گیا ہے، جس میں یورپ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ڈونرز نے شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں اسرائیل کا مستقبل اور سلامتی پر بحث کی جا رہی ہے۔

منگل کےروز کانفرنس کے پہلے دن مقامی شہریوں اور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہا کرنے والے افراد کی بڑی تعداد نے عالمی عدالت انصاف کے دفتر کے سامنے جمع ہو کر انعقاد پر احتجاج کیا۔

مظاہرین نےہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھار رکھے تھے جن پرفلسطینیوں کے مسائل کو نظرانداز کرنے اور اسرائیل کی بلا جواز حمایت اور مدد کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اس موقع پرایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ ھاری فان بومل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی عدالت انصاف کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے، اور ایک ایسے ملک کی مدد میں کانفرنس کے انعقاد میں عالمی عدالت انصاف کی عمارت کو استعمال کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے اسرائیل کا ایک ہی چہرہ ہے اور وہ اس کے خلاق قانون اقدامات ہیں، یہ کانفرنس بھی اسی مکروہ چہرے کی نمائندگی کرتی ہے۔

بومل کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں اسرائیل کی حمایت کے ساتھ ساتھ اس کے تحفظ کے طریقوں پربھی بحث کی جارہی ہے، اسرائیل جنگی مجرم ہے اور اس کے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے طریقہ کار وضع کرنا اور اس کے لیے عالمی عدالت انصاف کے دفتر کو استعمال کرنا کتنا افسوسناک ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کرے۔ جن کا حق ہے انہیں محروم کر دیا جاتا اور ناجائز حقوق کے مطالبات والوں کے لیے کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔

کانفرنس کے انعقاد پر آج دوسرے روز بھی شہریوں کی بڑی تعداد عالمی عدالت انصاف کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔

أعلى الصفحة