آج کا دن
08 September
2006
اسرائیلی فوج نے 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں قائم قیدیوں کی بہبود کےلیے کام کرنے والے ادارے کے دفاتر پر حملہ کر کے اس کی املاک کو قبضے میں لے لیا جبکہ اس پر دو سال کےلیے پابندی لگا دی
2003
اسرائیلی فوج نے فلسطینی چیف جسٹس قاضی تہسیر تمیمی کو مسجد اقصی کی جانب نماز کے لیے جاتے ہوئےگرفتار کر لیا
... گزشتہ سے پیوستہ
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)
[ 01/08/2007 - 08:06 AM ]
یہ دستاویز حماس کے پولٹ بیورو نے 2000ء میں دوسری ت

1۔ تعریف

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) فلسطین کی اسلامی جدوجہد (مجاہدہ) کی تحریک ہے۔ جس کا اعلیٰ ترین حوالہ اسلام ہے اور اس کی منزل فلسطین کی آزادی ہے۔

2۔ ارتقائی مراحل اور صورت گری

(الف) تحریک کی تاریخی جڑیں (1946-1967ء)

حماس، فلسطین میں اخوان المسلمین کی فکری اور تحریکی جانشین ہے۔ جس کی بنیادیں 1930ء اور 1940ء کے عشروں میں رکھی گئیں جب اخوان کی شاخیں یافہ، حیفا مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ میں قائم کی گئیں۔ جب اس کی شاخوں کی تعداد بڑھ گئی تو ایک گروپ نے 1946ء میں 29 اور 30 مارچ کو فلسطین کی اخوان کی شاخوں کی ایک کانفرنس منعقد کی تاکہ صہیونی منصوبے کے مقابلے کے لیے ان شاخوں کو متحد کیا جائے اور ان میں تعاون پیدا کیا جائے۔ دوسری کانفرنس اکتوبر 1947ء میں حیفا میں بلائی گئی۔ کانفرنس نے اس عزم کا اعلان کیا: ''اخوان پورے عزم و جزم کے ساتھ تمام ذرائع اور وسائل کے ذریعہ ملک کا دفاع کرے گی اور ان تمام قومی انجمنوں کے ساتھ تعاون کریں گے جو اس مقصد کے لیے کام کرنے پر تیار ہیں'' فلسطین میں اخوان کا کردار اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ''نکبہ'' (تباہی) کے موقع پر مصر، شام، اردن اور عراق سے اخوان کے رضاکار صہیونی گروہوں کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے۔ ان کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے 1955ء میں سینا کے شمال میں فلسطینی مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ ناکام بنادیا۔ اور 1956ء سے کچھ ہی پہلے صہیونی دشمن کے خلاف غزہ کی پٹی سے سرحد پار کارروائیاں بھی کیں۔

(ب) تحریک کے منصوبے کو شروع کرنے کی تیاری کا مرحلہ (1968-1980ء)

1967ء کی شکست اور اس کے نتیجے میں مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، سینا اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے نے فلسطینی کاز کے لیے متعدد مسائل پیدا کردیئے ان میں سے اہم ترین یہ ہیں۔

1۔ جہاں تک فلسطین کے مسئلے کا تعلق ہے عوامی شراکت میں عرب حکومتوں کا کردار کم ہوگیا۔ عرب علاقوں پر قبضے کے خلاف عوامی جدوجہد فوجی مزاحمت میں تبدیل ہوگئی۔

2۔ قبضے کے خلاف فلسطینی عوام کا کردار مضبوط اور گہرا ہوگیا۔ سارے فلسطینی عوام اور ان کے گروہوں کا اپنے تمام وسائل کے ساتھ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر قبضے کے بارے میں براہ راست رابطہ ہوا۔ اس حقیقت کے پیش نظر، تحریک کو فکری اور عملی طور پر نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔

3۔ ان فکری اور عملی رجحانات کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد مزاحمت کا پروگرام شروع کرنے کا راستہ ہموار ہوا اور عرب دنیا اور اسلامی علاقوں بشمول فلسطینی عوام میں اسلامی بیداری کی راہ روشن ہوگئی۔ یہ امت (پین اسلامی کمیونٹی) کے عوام کی ضرورت کا اظہار تھا۔ 1967ء کی تباہ کن شکست سے جو صدمہ ہوا تھا اور جو خلا پیدا ہوا اس کی روشنی میں تاریخی تشخص اور ثقافتی ہم آہنگی کی تلاش کی ضرورت پیدا ہوئی۔

ان واقعات کی روشنی میں اندرون ملک اور بیرون ملک مقیم فلسطین اخوان دو راستوں پر آگے بڑھے۔

1۔  پہلا راستہ: دریائے اردن کے کنارے صہیونی مقبوضہ علاقوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائیوں میں شرکت۔ اخوان نے اپنی کارروائیاں، ''شیخوں کے کیمپوں'' سے کیں جو 1968ء سے 1970ء تک الفتح تحریک کے تحت تھے یہ کارروائیاں سیاہ ستمبر کے واقعات کے نتیجے میں ختم ہوگئیں۔ اس تجربے میں مصر، شام، اردن، یمن، خلیج کے ممالک اور دوسرے ملکوں کی اخوان کے رضا کار شامل ہوئے۔

2۔دوسرا راستہ: فلسطین میں صہیونی قبضے اور دوسرے صہیونی منصوبے کے خلاف جہاد کے لیے تنظیمی انفراسٹرکچر کا قیام۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے اخوان نے مندرجہ ذیل شعبوں میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

1۔ اخوان کے ارکان میں دعوت و تبلیغ اور سماجی اصلاحات کے لیے جوش و جذبہ بیدار کرنا اور

2۔ نوجوانوں خاص طور پر یونیورسٹی گریجوایٹس کو اخوان میں شامل کرنا۔ فلسطینی طلباء کو جو مواقع میسر تھے اس گروپ نے ان سے فائدہ اٹھایا طلبا کو بیرون ملک یونیورسٹی کی تعلیم کی سہولت حاصل تھی جو بعد میں تحریک کے لیے لیڈر شپ ٹھوس بنیاد ثابت ہوئی۔

3۔ فلسطین میں مساجد کے قیام کو مہمیز دینا کیونکہ مساجد معاشرہ میں اثر و رسوخ کا اصل ذریعہ ہیں۔

4۔ خیراتی اور سماجی اداروں کا قیام۔ ان میں اسلامک سینٹر اور غزہ کی پٹی میں اسلامک سوسائٹی کے قیام کے علاوہ مغربی کنارے میں زکٰوة کمیٹیوں اور خیراتی اداروں کا قیام بھی شامل ہے۔

5۔ فلسطین کے اندر عوام اور بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کی حمایت کا حصول اور رکنیت سازی، صہیونی عزائم کے مقابلے کے لیے فلسطینی کاز کی حوصلہ افزائی اور تنازعے کے اسلامی پہلو کو واضح کرنا۔

6۔ فلسطین کے اندر فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے فریم ورک اور اداروں کی تعمیر اور دنبا بھر میں مختلف میدانوں میں فلسطینی طلباء کے لیے متعدد پلیٹ فارموں کا قیام۔ اس مرحلہ میں تحریک ٹھوس تنظیمی بنیاد قائم کرنے میں کامیاب ہوئی جس کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے اداراتی ڈھانچہ کی حمایت حاصل ہوئی۔ تحریک فلسطین کے اندر پبلک میں اسلام کے بعض پہلوؤں کو بحال کرنے میں بھی کامیاب ہوئی۔

قیام کا مرحلہ (1980-1987ء)

اس مرحلہ میں تعمیر کا کام جاری رہا اور اس کے ساتھ ہی سادہ قومی مزاحمتی مہم کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ تحریک نے مزید رکن بنانے کی کوششیں جاری رکھیں اور تنظیم کے اندر تعلیم اور اختصاص کی ضروریات پر بھی توجہ دی گئی۔ مقبوضہ علاقوں کے خلاف مزاحمت اور ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب ادارے تعمیر کیے گئے۔ اس مرحلہ کے دوران حماس کا جہاد کا جامع منصوبہ، فکری اور تنظیمی طور پر متشکل ہوا۔ اس کے بعض اہم ترین مراحل درج ذیل ہیں۔

1۔ بعض عرب اور مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں میں اسلامی بلاکوں کے قیام کے نتیجہ میں اسلامی طلباء کا ایکشن ابھرا۔

2۔مساجد کی تعمیر میں توسیع اور ان کی دعوت سے معاشرتی تبدیلی کے کردار کو واضح کیا گیا۔

3۔ قبضے کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی تیاری۔ تحریک کی بعض پرانی فوجی تنظیمیں بے نقاب ہوگئیں جن کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا، خاص طور پر 1984ء میں شیخ احمد یاسین کی فوجی تنظیم۔

4۔ تحریک کی انتہائی بنیادی سطح کی مزاحمتی کارروائی کی طرف پیش قدمی اور تحریک کے اندرونی حلقوں کو متحرک کرنا۔ اس کا اظہار 1981ئ، 1982ء اور 1983ء میں انقلابات مسجد کے ذریعہ ہوا۔ متحرک کرنے کا کام 1986ء میں بیروت یونیورسٹی میں جواد ابو سلیمہ اور صائب ذہاب کی شہادت سے اپنے عرج پر پہنچا۔ بعد میں اسلامک یونیورسٹی میں بے شمار محاذ آرائیاں ہوئیں۔ اسرائیلیوں نے کئی مرتبہ یونیورسٹی کا گھیراؤ کیا اور متعدد طلباء کو زخمی اور گرفتار کیا۔

5۔ تحریک کے اندر خاص ادارے قائم کیے گئے جن میں سے ایک منظمات الجہاد و الدعوہ (MAJD) بھی ہے جس نے 1985ء میں تحریک کی سیکیورٹی کا کام کیا۔ ایک اور ادارہ المجاہدین الفلسطینیون ہے جو 1987ء میں قائم ہوا، جس نے قابضوں اور ان کے حواریوں کے خلاف براہ راست کارروائیاں کیں۔

6۔ اس مرحلے میں تحریک نے مختلف نعروں اور قانونی تنظیموں کے ذریعہ کام کیا جن میں الشجاع الاسلامی، الحرکة الاسلامیہ اور دوسری تنظیمیں شامل ہیں۔

7۔ فلسطین سے باہر تحریک اور دوسرے ملکوں میں فلسطینیوں کی شاخوں نے صہیونی دشمن کے مقابلے کے لیے تحریک کے منصوبے کو مکمل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ان کی تمام کوششیں اندرون فلسطین تحریک کی کوششوں سے ہم آہنگ اور ان کی معاون تھیں۔ فلسطین سے باہر کی تمام جدوجہد نے مندرجہ ذیل امور پر اپنی توجیحات مرکوز کیں۔

(الف) طلباء، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کے لیے پلیٹ فارموں کا قیام۔

(ب) فلسطین کے اندر عوام کی امداد کے لیے خیراتی کام کرنا اور ان کا لائحہ عمل طے کرنا۔

(ج) پروجیکٹ کے وژن اور اس کے عمومی منصوبے کی تکمیل۔

(د) کارروائی کے مختلف دائروں میں کمیٹیوں اور اداروں کا قیام۔

(ر) عالم عرب اور عالم اسلام میں اسلامی اور قومی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کے علاوہ ان کی ترجیحات میں فلسطین کا مسئلہ اور صہیونی خطرے کا مقابلہ شامل تھا۔

اس مرحلے میں تحریک کے ارکان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بیشتر نئے ارکان دانشور اور یونیورسٹی کے طلباء تھے۔ اس نے فلسطینی معاشرہ میں اسلامی اصولوں کی پابندی کو ثقافتی معیار بنایا۔ 1970ء کے عشرے اور 1980ء کے عشرے کی ابتدا تک شاذ و نادر ہی اسلامی اصولوں کی پیروی ہوتی تھی تحریک سیکیورٹی کا ایک طاقتور ادارہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کی وجہ تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی اور ارکان کی پختہ وابستگی تھی۔ ان تمام عوام کی وجہ سے فلسطین میں حماس کے منصوبے تیزی سے بار آور ہوئے۔

آغاز کا مرحلہ (1987-1994ء)

تیاری کے مختلف مراحل کے بعد اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) شروع کردی گئی۔ نومبر 1987ء میں اس کے قیام کا اعلان ایک اعلامیے کے ذریعے کیا گیا۔ جس کو عوام میں تقسیم کیا گیا۔ اس میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ اسرائیل کے حواری فلسطینیوں کو اپنے جال میں پھانسنے کے لیے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ 14 دسمبر 1987ء کی تاریخ نے خاص علامتی اہمیت اختیار کرلی، یہ تاریخ تحریک کے قیام کا دن تصور کی گئی اور اس دن پہلا انتفاضہ پھوٹا۔ درحقیقت اعلامیے کا مقصد تحریک کے قیام کا اعلان نہیں تھا کیونکہ تحریک پہلے ہی سے قائم تھی اور میدان میں سرگرم عمل تھی۔ اس کا مقصد عوام کو اس کے وجود سے آشنا کرنا اور یہ بتانا تھا کہ یہ تحریک اسرائیل کے خلاف صف آرا ہے۔ اعلامیے نے اس مرحلے کا اشارہ دیا جس میں ترجیحات کو ازسر نو متعین کرنا اور یہ مسئلہ طے کرنا تھا کہ آزادی یا تبدیلی دونوں میں سے ترجیح کس کو حاصل ہے اور آخر کار ہمیشہ کے لیے یہ طے ہوا کہ آزادی پہلی ترجیح ہے۔ تحریک کا بنیادی پروگرام قبضے کے خلاف مزاحمت قرار پایا جس کو دعوت اور سماجی تبدیلی سے متصادم قرار نہیں دیا گیا اس نے اس مرحلے کا اشارہ دیا جس میں تحریک مزاحمت زیادہ وسیع میدان میں سامنے آگئی۔

اس دور کے بعض اہم ترین مراحل درج ذیل ہیں۔

1۔ تحریک نے انتفاضہ کو آگے بڑھانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ یہ پہلی تنظیم تھی جس نے حالات کے مطابق عملاً کام کیا اور یہ کام بہت سرگرمی سے ہوا۔ رہنمائی اور متحرک کرنے کے لیے یہ سب سے زیادہ باصلاحیت تنظیم تھی۔

2۔ اس دور میں تحریک انتفاضہ کی سرگرمیوں کو ''پی ایل او'' سے بالکل الگ تھلگ کرکے چلایا۔ پی ایل او متحدہ قومی کمان کے تحت کام کررہی تھی۔

3۔ تحریک نے انتفاضہ کو ایک عام ہئیت سے مزاحمت کی عمدہ ترین شکلوں تک پہنچایا جو فوجیوں کے اغوا سے لے کر چاقوؤں کی جنگ تک اور بالآخر شہادتی آپریشنوں تک پہنچ گئی تھیں۔ اس کا نقطہ عروج 1993ء میں آیا جب تحریک کے فوجی شعبے ''شہید عزالدین القسام بریگیڈز'' نے 20 ملٹری آپریشن مکمل کرلیے جن میں 32 اسرائیلی فوجی یا یہودی نو آباد کار ہلاک ہوئے۔

4۔ اس دور میں تحریک کو وسیع پیمانے پر نظر بندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے سب سے بڑی کارروائی 1989ء کو ہوئی جب شیخ احمد یاسین اور تحریک کی ساری قیادت کو نظر بند کردیا گیا۔ اس طرح 1990ء اور 1991ء میں تحریک پر سخت وقت آیا لیکن تحریک ہر بار بحران سے نکل آئی۔ اس نے اپنی صفوں کو دوبارہ ترتیب دیا اور تجربہ سے سبق سیکھا۔

5۔ تحریک کے خلاف جو بڑی کارروائیاں ہوئیں ان میں فوجی کارروائیاں بھی شامل تھیں، جو متعدد اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور اغوا کے جواب میں کی گئیں۔ 1989ء میں تحریک پر جو ضرب لگائی گئی اس میں اسرائیلی فوجی ایلان سعدون اور ایوی ساسپورتاس قتل ہوئے اور متعدد فوجی اغوا کیے گئے۔ 1990ء میں تحریک شروع ہونے کے بعد جو ضرب لگائی گئی اس میں شہید مروان الضیغ اور مجاہد اشرف البعلوجی نے تین صہیونیوں کو ہلاک کیا۔ تحریک کو سب سے بڑی ضرب اس وقت لگی جب چار سو لیڈروں اور عام کارکنوں کو جنوبی لبنان میں مرج الزہور (Marj Al-Zuhur) میں دھکیل دیا گیا۔ اس کی وجہ اسرائیلی افسر نیسم ٹولیڈانو (Nissim Toledano) کا اغوا اور قتل تھا۔ جن لوگوں کو ملک بدر کیا گیا تھا انہوں نے اس بے جگری سے احتجاج کیا کہ دشمن انہیں فلسطین واپس بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔

6۔ تحریک نے صہیونیوں اور ''پی ایل او'' کے درمیان کھلے یا خفیہ مذاکرات کو مسترد کردیا اور مختلف اعلامیوں اور بیانات اور دوسرے سیاسی طریقوں سے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا۔ اس وقت اوسلو معاہدے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ ملد بدری اسی حوالے سے ہوئی۔

اس دور میں تحریک نے مزاحمت اور فوجی کارروائی میں قائدانہ پوزیشن اختیار کرلی۔ اس نے اپنی رکنیت میں بڑی توسیع کی، جس نے متعدد عرب ممالک میں بڑی پذیرائی حاصل کی ہے۔ اس سے تحریک کے بیرونی تعلقات کا آغاز ہوا۔ اس دور نے تحریک کے منصوبوں کے ٹھوس اور مؤثر ہونے کا ثبوت فراہم کیا اور تحریک کے ترقیاتی مراحل کی تدابیر کا درست ہونا ثابت کردیا۔ اس طرح خدا کے فضل کرم سے یہ ظاہر ہوگیا کہ تحریک بحرانوں سے کامیابی سے نکلنے کی استعداد رکھتی ہے۔

اوسلو معاہدے کے بعد کا دور (1994-2000ء)

صہیونی دشمن سے اوسلو معاہدہ 13 ستمبر 1993ء کو ہوا۔ اس پر امن سیاسی سمجھوتے کے مقابلے میں تحریک قائم رہی اور اس دور میں اس نے اس جوش و خروش کا مقابلہ کیا جو اس معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اس دور میں تحریک صہیونی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد اور جہاد کرنے والی اصل قوت بن کر ابھری اس کام کے لیے اس کو زبردست قربانیاں دینا پڑیں جن میں درجنوں لوگ شہید ہوئے جبکہ سیکڑوں قید اور نظر بند ہوئے تحریک کے خلاف مہم 1996ء میں اپنے عروج پر پہنچی جب شرم الشیخ میں سربراہ کانفرنس کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان اتحاد قائم ہوا، جس کو اس وقت دہشت گردی کے خلاف سربراہ کانفرنس کا نام دیا گیا۔ یہ کانفرنس تحریک کے انتقامی حملے کے بعد بلائی گئی جو انجینئر یحیٰ عیاش کی شہادت کے بعد کیا گیا تھا۔ تحریک اور اس کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے سخت گیر اقدامات کیے گئے۔ ان کے باوجود تحریک اس بحران میں سیاسی اور فوجی اعتبار سے زیادہ مضبوط اور مؤثر ہوکر ابھری۔ بعد کے واقعات نے تحریک کی پوزیشن کو صحیح ثابت کردیا اور اس علاقہ میں تنازعے کے پرامن سمجھوتے کے متعلق تحریک کے نقطہ نظر کو درست ثابت کردیا۔ تحریک نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ اندرونی اور بیرونی طور پر سیاسی اور سیکیورٹی تبدیلیوں کے متعلق اپنے آپ کی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ صلاحیت ایسی ہے جس سے اس کا جہادی منصوبہ اور سیاسی اور سماجی پروگرام متاثر نہیں ہوسکتے۔

نتیجہ

حماس اپنے آغاز ہی سے مختلف حالات اور مراحل سے گزری ہے۔ 1947ء میں حیفا کانفرنس کے بعد سے ہر مرحلہ پر یہ بات بالکل واضح تھی کہ صہیونی منصوبہ ہمارے مذہبی عقائد اور قومی مفادات سے متصادم تھا۔ اس لیے اس سے ٹکراؤ ناگزیر ہوگیا اور یہ ضروری ہوگیا کہ اس کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کیا جائے اور اس کو ختم کرنے کے لیے مناسب ماحول پیدا کیا جائے۔ داخلی اور معروضی حالات کی وجہ سے کچھ عرصہ تک حماس کے صورت پذیر ہونے میں بعض رکاوٹیں رہیں، لیکن جب مناسب حالات پیدا ہوئے تو منصوبے کے مطابق اس کی تعمیر شروع کردی۔ اس کے ڈھانچے کو کھڑا کردیا اور اپنے منصوبوں اور پالیسیوں کو واضح شکل دینی شروع کردی۔ 8 دسمبر 1987ء کو جب پہلا انتفاضہ پھوٹا اس دن سرکاری طور پر حماس کی تحریک کا آغاز کردیا گیا اس کا پہلا اعلامیہ 14 دسمبر 1987ء کو جاری ہوا جس میں تحریک کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ پس صہیونی قابضوں سے مقابلے کے لیے اس کے ڈھانچے کے قیام اور اس کے کردار کا واضح اعلان کیا گیا۔

3۔ صہیونی منصوبے سے تصادم

حماس کا خیال ہے کہ صہیونی منصوبے سے تصادم دراصل ایک تہذیب اور بقا کا تصادم ہے جس کو ختم کرنے کے لیے اس کے اصل سبب کو دور کرنا ضروری ہے۔ اصل سبب فلسطین میں نسلی نو آبادیاتی صہیونی ریاست کا قیام ہے۔

صہیونی منصوبے کے متعلق تحریک کا نقطۂ نظر مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر قائم ہے۔

1۔ صہیونی منصوبہ علاقے میں مغربی نو آبادیاتی طاقتوں کے مفادات اور فلسطینی سرزمین پر ان کے عزائم کے درمیان ہم آہنگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ فلسطینی سرزمین پر ان کے ناپاک عزائم ان کی نظریاتی اساطیر کی بنیاد پر جائز قرار پاتے ہیں، جو یہودی اور عیسائی صہیونی بیان کرتے ہیں۔

2۔ صہیونی وجود ایک نوآبادیاتی وجود ہے جو اس تصور پر قائم ہے کہ فلسطینی باشندوں کو طاقت کے بل بوتے پر اس سرزمین سے نکال کر یہودیوں کو آباد کردیا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے دہشت گردی کے تمام ذرائع استعمال کیے جائیں۔

3۔ صہیونی منصوبہ توسیع پسند ہے۔ یہ پورے علاقے پر اپنی بالادستی قائم کر کے ان کے وسائل کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح یہ ناصرف فلسطین بلکہ پورے عالم عرب اور عالم اسلام کے للیے حقیقی خطرہ ہے۔

4۔ اس منصوبے میں دوسروں کے ساتھ بقائے باہمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسرائیل دوسروں پر اپنی بالادستی قائم کر کے اس علاقے اور پوری دنیا میں صہیونی تحریک کے عزائم بروئے کار لانا چاہتا ہے۔ اس لیے اس سے امن قائم کرنا یا کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا بے معنی ہوگا۔

5۔ صہیونی ریاست ایشیا اور افریقہ کے ساتھ عرب ممالک کے جغرافیائی اتصال کو توڑنے کے لیے مؤثر ذرائع رکھتی ہے۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب اس علاقے میں مزاحمت کے منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ اس کا مقصد عرب اور اسلامی اتحاد کے پروگرام کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرکے استعماری عزائم کو پورا کرنا ہے۔

4۔ حماس کا آزادی کا وژن

حماس کا خیال ہے کہ فلسطین کی مکمل آزادی سمندر سے دریا تک، اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک تین اہم حلقے مل کر جدوجہد نہیںکرتے، جو یہ ہیں۔

1۔ فلسطینی حلقہ:

صہیونی جنگ آزادی کا یہ ہراول دستہ ہے اس کا کردار جہاد کے شعلے کو روشن رکھنا ہے تاکہ قومی پروگرام میں یہ مسئلہ زندہ رہے، جس کی بنیاد پر قبضے کے خلاف مزاحمت کو اس وقت تک باقی رکھنا ہے جب تک دوسرے دو حلقے تیار نہیں ہو جاتے۔

2۔ عرب حلقہ:

صہیونی منصوبہ چونکہ پوری عرب امت کے لیے خطرہ کا باعث ہے اور سیاسی اور قومی جہت میں فلسطین کی جو حیثیت ہے اس کے پیش نظر آزادی کے لیے عرب حلقے کا کردار بنیادی اور مرکزی ہے، کیونکہ عرب امت کے اندر وہ قوت مضمر ہے جس پر آزادی کے کام کا انحصار ہے۔

3۔ اسلامی حلقہ:

جس طرح فلسطین کا مسئلہ عرب مسئلہ ہے، اسی طرح یہ اسلامی مسئلہ بھی ہے۔ ہر مسلمان کا اس مسئلہ سے تعلق ہے کیونکہ فلسطین اسلامی سرزمین ہے جس میں قبلہ اول موجود ہے اور تیسری اہم ترین مسجد بھی یہیں ہے جہاں پیغمبرۖ معراج کی رات ٹھہرے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کا انفرادی اور اجتماعی طور پر فرض ہے کہ وہ اس کو آزاد کرانے کے لیے جو حصہ ادا کرسکتے ہیں وہ ادا کریں لہٰذا فلسطینی عوام اور عرب امت فلسطین کو آزاد کرانے اور صہیونی ریاست کے خاتمہ کے لیے جو کوشش کریں اسلامی امت کو اس میں مدد کرنی چاہیے۔

5 ۔ حماس کے پروگرام میں فوجی کارروائی

حماس کے پروگرام میں فوجی اقدام کا مقصد فلسطین کی آزادی اور صہیونی عزائم کا مقابلہ ہے۔ تنازعہ باقی رکھنے کی یہ واحد ضمانت ہے تاکہ صہیونیوں کے بیرونی توسیعی منصوبے کو روکنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ تحریک کا خیال ہے کہ قبضے کا استرداد فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کے وجود کے خلاف فوجی کارروائی ہی تحریک کا جواز ہے۔ یہ جواز آسمانی مذاہب، بین الاقوامی معیارات اور انسانی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے۔

فوجی کارروائی مقررہ پالیسیوں کے مطابق ہوتی ہیں جن میں سے سب سے اہم ذیل میں درج کی جارہی ہیں۔

1۔ صہیونیوں کے ساتھ تنازعہ کے مذہب کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہماری سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کرلیا، وہ ہمارے مقدس مقامات کی بے حرمتی کرتے ہیں اور ہمارے عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں۔

2۔ ہر قسم کی مزاحمت کا مقصد قبضہ ختم کرانا ہے اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک اسرائیل کو شکست نہیں ہو جاتی اور قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔

3۔ حماس کی فوجی کارروائی فلسطین تک محدود ہے، ان علاقوں تک جن پر اسرائیل نے 1948ء اور 1967ء میں قبضہ کررکھا ہے۔

4۔ تحریک کی فوجی کارروائیوں کا ہدف شہری صہیونی نہیں بلکہ فوجی صہیونی ہیں۔ شہری فوجی کارروائی کے دوران غیر ارادی طور پر زد میں آجاتے ہیں، لیکن جب دشمن فلسطینی شہریوں کو نشانہ بناتا ہے تو انتقامی طور پر دشمن کے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

6۔      حماس کے پروگرام میں سیاسی اقدام

فوجی پروگرام کے علاوہ تحریک کا ایک سیاسی پروگرام بھی ہے جس کی بنیاد فلسطینی عوام، عرب اور اسلامی امت کے وسائل کو مجتمع کرنا ہے اور صہیونی عزائم کو ناکام بنا کر پورے فلسطین میں عرب اسلامی ریاست قائم کرنا ہے۔ اس کی روشنی میں مختلف امور اور وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے متعلق تحریک اپنی پالیسیاں بناتی ہے۔ حماس کی چند اہم ترین پالیسیاں درج کی جارہی ہیں۔

فلسطینی گروہوں کے متعلق حماس کا مؤقف

(1) تحریک قومی اساسات پر مبنی قومی اتحاد پر یقین رکھتی ہے جو آزادی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

(2) حماس کا خیال ہے کہ فلسطین کے قومی اقدام کا دائرہ بڑا وسیع ہے جس میں صہیونی عزائم کے مقابلے کے لیے مختلف نقطۂ نظر سما سکتے ہیں۔

(3) مشترکہ بنیادوں پر حماس فلسطین میں کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں سے تعاون کرنے کی خواہشمند ہے اور ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔

(4) حماس مشترکہ قومی کارروائی کو وسیع کرنا چاہتی ہے۔ تحریک کا خیال ہے کہ فلسطینی مشترکہ قومی اقدام کی بنیاد فلسطین کی آزادی کے عزم پر ہونی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ یہ عزم بھی ہونا چاہیے کہ فلسطین کے کسی بھی حصہ پر صہیونی دشمن کا حق تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

(5) حماس کا خیال ہے کہ فلسطین میں نقطہ نظر یا اپوزیشنوں میں خواہ کتنا اور کیسا ہی اختلاف کیوں نہ ہو اور حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ان کو طے کرنے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال ہرگز نہیں کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات سخت اقدامات کے باوجود حماس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کا مقصد فلسطینی خون کو محفوظ رکھنا اور فلسطین کے بلند ترین مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔

(6) حماس اس بات کو ضروری سمجھتی ہے کہ فلسطین میں ایک اچھے معاشرے کے قیام کے لیے تمام کوششوں میں اشتراک پیدا کیا جائے۔ اس معاشرے میں سب کو آزادی اور برابری حاصل ہو اور معاشرہ کثیر السیاسی ہو لیکن یہ سب کچھ فلسطینی معاشرے، عرب اور اسلامی امت کی اعلیٰ ترین اقدار کے دائرے میں ہو۔

پرامن سمجھوتے کے متعلق حماس کی پوزیشن

1۔ تحریک بار بار یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ امن کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن وہ ایسا امن چاہتی ہے جس میں فلسطینی عوام کے حقوق بحال ہوں اور پوری سرزمین پر ان کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ان کی آزادی اور حاکمیت کی ضمانت دی جائے۔ یہ امن کمزوری اور بزدلی سے حاصل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے جرأت، ہمت اور قوت کی ضرورت ہے۔

2۔ تحریک کا خیال ہے کہ غاصب قوت اور فلسطین کی بعض پارٹیوں کے درمیان معاہدے ناقابل قبول ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ فلسطینی عوام کے قومی حقوق اور مقدس مقامات پر امت کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

3۔ تحریک یہ سمجھتی ہے کہ آبادکاری کے سمجھوتے دشمن کو زندہ رہنے کا حق دیتے ہیں اور فلسطین پر قبضے کو جائز قرار دیتے ہیں اور دشمن کو عرب اور اسلامی ممالک تک اپنے ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی پروگرام، توسیع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح وہ عرب اور اسلامی امن کے مستقبل کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

ان وجوہ اور دوسرے امور کی بنا پر تحریک نے آبادکاروں کے منصوبوں کو مسترد کردیا ہے۔ جن کی وجہ سے اوسلو، دریائے وائی، شرم الشیخ اور دوسرے مقامات پر سمجھوتے ہوئے۔ تحریک سمجھتی ہے کہ ان سمجھوتوں کا مقصد فلسطینی مسئلے کو ختم کرنا، اپنی سرزمین اور مقدس مقامات پر فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنا، مہاجرین کو اپنے گھروں کی واپسی کے حق سے محروم کرنا او اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے فلسطینی عوام کو جائز ذرائع کے استعمال سے روکنا ہے۔ مزید برآں ان کا مقصد فلسطینی عوام کی اکثریت کو اپنے ملک میں اپنے حقوق سے محروم کرنا ہے۔ ان سمجھوتوں نے تنازعے کو صحیح راستہ سے ہٹا دیا اور ان کا فلسطین کی مختلف قوتوں اور گروہوں پر منفی اثر پڑا۔

حماس کے خارجہ تعلقات

1۔ حماس یہ سمجھتی ہے کہ سیاسی واقعات پر اختلافات کسی پارٹی سے تعاون کرنے اور رابطہ رکھنے میں مزاحم نہیں ہوتے جو فلسطینی عوام کی مزاحمت کی حمایت کرتی ہے۔

2۔ حماس کا دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ان کی داخلی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کرتی۔

3۔ حماس عرب اور اسلامی حکومتوں کی اپنے تنازعات حل کرنے میں حوصلہ افزائی کرتی ہے اور پین عرب اور پین اسلام ازم کے مقاصد کے لیے متحد ہونے کی بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ حماس ان کے تنازعات میں جانبدار نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی سیاسی محور کی حمایت کرتی ہے۔

4۔ حماس عرب اور اسلامی اتحاد کی حمایت کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے کوششوں کی حمایت کرے گی۔

5۔ حماس تمام عرب اور اسلامی حکومتوں، پارٹیوں اور قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ہمارے لوگوں کے کاز کی حمایت کریں اور صہیونی قبضے کے خلاف ان کی مزاحمت کی مدد کریں۔ حماس ان سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ حماس کی سرگرمیوں کے لیے سہولتیں فراہم کریں اور اس کے مشن میں اس کی حمایت کریں۔

6۔ حماس امت کی مختلف اسلامی اور قومی قوتوں اور تحریکوں سے قریبی روابط قائم رکھنے کی اہمیت سے واقف ہے۔ درحقیقت وہ قریبی تعلقات کے قیام کے لیے پوری کوشش کررہی ہے جس کا مقصد امت کے خلاف صہیونی عزائم سے مقابلے کے لیے امت کی کوششوں کو مجتمع کرنا ہے۔

7۔ حماس عالمی حکومتوں، بین الاقوامی طاقتوں اور پارٹیوں سے مذاکرات کی اہمیت سے باخبر ہے۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کس مذہب، قومیت اور سیاسی نظام سے تعلق رکھتی ہیں۔ حماس اپنے لوگوں کے جائز کاز کے لیے دنیا کی کسی بھی پارٹی سے تعاون کے لیے تیار ہے۔ یہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کی کوششوں کا حصہ ہے۔

8۔ حماس، مذہب، عقیدے اور نسل کی بنیاد پر کسی کے خلاف نہیں ہے اور کسی ملک یا تنظیم کے خلاف بھی نہیں ہے جب تک کہ وہ ہمارے عوام کے خلاف ناانصافی کا مظاہرہ نہ کریں یا صہیونی قبضے اور اس کی جارحیت کی حمایت نہ کریں۔

9۔ صہیونی قبضے کے خلاف مزاحمت کو حماس فلسطین تک محدود رکھنا چاہتی ہے اور میدان جنگ کو کسی اور ملک تک وسیع نہیں کرنا چاہتی۔

10۔ حماس حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں یا اداروں کو آمادہ کرنے کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ ہمارے عوام کے جائز حقوق کی حمایت کریں اور مقبوضہ علاقوں میں ظالمانہ اقدامات کی مذمت کریں کیونکہ یہ ظالمانہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی فورموں کا بھی تعاون حاصل کرنے کی کوشش ہورہی ہے تاکہ ہماری سرزمین پر غاصبانہ قبضے کو ختم کرانے کے لیے صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

دوسرے آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق مؤقف

حماس کا ایمان ہے کہ اسلام اتحاد، مساوات، تحمل، بردباری اور آزادی کا مذہب ہے۔ یہ انسانی ہمدردی اور تہذیب کا مذہب ہے۔ یہ کسی کا مخالف نہیں جب تک کہ کوئی امت کے خلاف معاندانہ رویہ نہ اختیار کرے۔ حماس سمجھتی ہے کہ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنا دوسرے آسمانی مذاہب کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے مثالی فضا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی بہترین گواہ ہے۔ تحریک قرآن کی اس آیت سے رہنمائی حاصل کرتی ہے کہ مذہب میں کوئی اکراہ نہیں ہے قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ تمہارے مذہب کے معاملے میں تم سے جھگڑتے نہیں یا تمہیں گھروں سے نہیں نکالتے ان کے ساتھ نرمی اور انصاف کے ساتھ پیش آؤ اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

ان اقدار کی بنا پر حماس دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کا احترام کرتی ہے۔ جہاں تک مسیحیوں کا تعلق ہے حماس انہیں اپنا ہم وطن سمجھتی ہے اور غاصب قوت نے ان کے ساتھ بھی وہی ظلم کیا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ وہ غاصب قوت کے خلاف مزاحمت اور اس کی نسلی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت میں برابر کے شریک رہے ہیں اور وہ فلسطینی عوام کا جزولاینفک ہیں۔ انہیں سارے حقوق حاصل ہیں اور ان پر بھی ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔  

أعلى الصفحة

Palastine salution
نام: Syed Modassir Azam تاریخ: 01/09/2010 12:36:09
ملک: Sweden پیشہ: انتظامی آفیسر
Paastinen salution is that we all muslim get togather and just forget our diffrences atleast for the time being , I love Hamas and I respect Hamas ALLAH will Help Hamas, Best short of the day those four jews dogs
1 1 1